حاجی صاحب سے گانڈ مروائی

 

حاجی صاحب سے گانڈ مروائی



کئی سال پہلے ہمارے محلے میں انتہائی خوبصورت اور مضبوط جسم کے بزرگ رہتے تھے۔ سفید داڑھی اور مونچھیں ان پر خوب جچتی تھیں۔میری جب بھی ان سے سلام دعا ہوتی تو وہ انتہائی محبت سے ملتے تھے۔ میری عمر اس وقت 23 سال ہوگی۔ وہ عمر میں بڑے ہونے کے باوجود ان کا رویہ انتہائی پیار بھرا ہوتا تھا۔ مجھے بچپن سےہی گانڈمروانے کا شوق تھا۔سب سے پہلے میرے کزن نے 7 سال کی عمر میں میری گانڈ انگلی کی جب ہم ان کے گھر کراچی ملنے گئے تھے اور مجھے مزہ آگیا تھا اور پھر اس نے میری گانڈ ماری ۔
تو جب بھی ان بزرگ کو جن کو محلے والے حاجی صاحب کہہ کے پکارتے تھے میری ملاقات ہوتی تو میرے گانڈ میں ان کی لنڈ کو لینے کیلئے سنسنی سی پھیل جاتی۔ لیکن کئی صورت بن نہیں پارہی تھی اور مجھے یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں وہ ناراض ہو بات کو بڑھا نہ دیں۔اب تو جیسے مجھ ان سے چدانے اور ان کی لنڈ کو اپنے گانڈ میں ڈالنے کی جیسے ضد ہوگئی تھی۔کچھ دن وہ نظر نہیں آئے تو میں نے ایک محلے دار سے ان کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ کچھ بیمار ہیں۔ میں ان کی طبعیت پوچھنے ان کے گھر گیا تو کچھ اور محلے دار بھ ان کی عیادت کو آئے ہوئے تھے۔کوئی پانچ دس منٹ کے بعد وہ چلے گئے تو میں اٹھ کر ان کے پلنگ پر جس پر وہ لیٹے ہوئے تھے آکر بیٹھ گیا اور پھر میں نے ہمت کرکے ان کے پیر دبانے لگ گیا ۔ انہوں نے منع کیا لیکنمیں نے ان سے کہا کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں اور تھوڑی سی خدمت ہمیں بھی کرنےدیں تو انہوں نے کہا اچھا بیٹے تمھاری مرضی۔اب میں ان کے پیر دبانے لگا اور ان کو بھی مزہ آنے لگا وہ آنکھ بند کرکے سسکاریاں بھرنے لگے۔ اب میں نے بھی موقع کو غنیمت جان کر ان سے اس بیماری میں اپنی گانڈ مرانے کی ٹھان لی۔ اب میں آہستہ آہستہ دباتےو
دباتے میرے ھاتھ ان کی گٹھنوں سے اوپر ان کی رانوں تک پہنچ گئے اور ان کی سسکاریاں تیز ہوگئیں اور مجھے یقین ہوگیا کہ بڈھا مزے لے رہا ہے اور پھر جھٹ سے میں نے ان کی لنڈ کی طرف ھاتھ بڑھایا ان کا جسم کمبل ڈھکا ہوا تھا اس لئے مجھے ان کے لنڈ کی حالت کا پتہ نہیں تھا۔ جیسے ہی میرا ہاتھ ان کی لنڈ پہ لگا ان کے جسم نے جھرجھری سی بھر اور میرے گانڈ کی نسین بھی پھولنے اور سکڑنے لگیں۔ کیونکہ ان کا لنڈ ہتھوڑے کی طرح مست کھڑا تھا اور اندازے سے زیادہ موٹا اور لمبا تھا۔ حاجی صاحب شوقین مزاج لگتے تھے جیسے ہی ان کا لنڈ میرے ہاتھ میں آیا ادھر انہوں نے نے مجھے اپنی طرف کھینچ کے میرے ہونٹوں پر کس ماردی۔ اب ہمارے درمیان سے شرم کا پردہ ہٹ چکا تھا انہوں نے مجھے دروازے کو کنڈی لگانے کو کہااور خود اپنے کپڑے اتارنے لگے۔جیسے ہی میں مڑا ان کا سرخ سفید لوڑا تنا ہوا  تھا اور بالوں کی تازہ تازہ صفائی ہوئی تھی۔ میں نے ان کی لنڈ کو ھاتھ میں لیتے ہو کہا ظالم تو نے بہت ترسایا ہے آج تمھاری خیر نہیں ہے۔ حاجی صاحب نے بھی کہا کہ میرا لنڈ بھی تمھاری گانڈ مارنے کے لئے ہروقت بیتاب رہتا تھا اور مجھے لگا تھا کہ تم گانڈ مرواتے ہو لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی کہنے کی۔پھر حاجی صاحب نے میرے بھی کپڑے اتارے اور ہم ننگے بستر پر لیٹ گئے۔ اور ایک دوسرے کو کس کرنے لگے۔ اب میرا لنڈ بھی کھڑا ہوگیا تھا لیکن حاجی صاحب کے لنڈ کامقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ اب حاجی صاحب نے میرے لنڈ کو منہ میں ڈال کر اس کو خوب کھڑا کیا اور اس سے میرے گانڈ میں طوفان مچ گیا اب میرے لنڈ کو چھوڑ کر حاجی صاحب نے میرے گا نڈ کے پراپنی زبان پھیرنے اور اندر بار کرنے لگےاب تو جیسے 
میری گانڈ میں آگ لگی ہوئی تھی پھر اچانک انہوں نے اپنی انگلی میرے گا ڈ میں گھسا دیا اور میری سسکاری نکلی اور میرا لنڈ پھدکنے لگا اور میں ان سے میرے گانڈ کی آگ بجھانے کے لنڈ اندر ڈالنے کی منت سماجت کرنےلگا اور پھر جب اس نے اپنا مست لنڈ میرے اندر ڈال دی تو مستی،مزے اور درد سے میری چھوٹی سی چیخ نکل گئی۔اور پھر ہم دونوں مزے گم ہوگئے۔ حاجی صاحب میری گا نڈ کو چودتے رہے اور 
میں مزے لیتا رہا اور پھر مجھے میرے گانڈ میں گرمی کی پھوار لگی اور حاجی کا لنڈ اور پھول گیا۔ایک دو گھسے اور مارنے کے بعد وہ بےجان ہوکر میرے اوپرہی لیٹ گئے اور ان کا لنڈ میرے گانڈ کے اندر آہستہ آہستہ سکڑنے لگا ان کی لنڈ کا پانی بھی دھیرے دھیرے میرے گانڈ سے خارج ہونے لگا جس سے مجھے اور میرے گا نڈ کو اور زیادہ آنند آنے لگا۔ اس کے بعد تو میں حاجی کا رکھیل بن گیا۔ کیا طاقتور اور مست لنڈ تھا۔ میری گانڈ حاجی صاحب کی لنڈ کئے آج بھی ترستا ہے۔ پانچ سال تک حاجی نے دب کے میری گانڈ ماری اور میں نے دب کر اس بڈھے کی لنڈ کا مزہ لیا۔ پھر حاجی صاحب ہمارا محلہ چھوڑ کر کسی اور شہر منتقل ہوئے اور ان کی مست لنڈ کی یادیں رہ گئیں۔ 

Post a Comment

0 Comments