ابھی میرے بچپن کے دوست کمار کو دو دن بھی نہیں گزرے تھے گئے اور اس پانچ سال کے بعد اپنی موٹی اور دمدار 6 انچ کے لن کو میرے نرم اور گرم گانڈ میں ان تین دنوں میں کوئی سات دفعہ گسھیڑ کر اپنی لن کی گرمی سے میرے گانڈ کی آگ بجھائی تھی. لیکن دو دن میں ہی ایسا لگ رہا کہ میری گانڈ کو مرد ملائی سالوں سے نہ ملا ہو اور وہ لن کی گرم گرم ملائی سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے ترس گئی تھی۔ ان دو دنوں میں نے گانڈ پر جیلی لگا کر موم بتی سے اپنے آپ کو چودا پھرمیں نے تیل لگا کر موٹا سا کھیرا ڈال کر گانڈ کی کجلی کو کم کرنے کوشش کی کسی طرح سکون اور آنند نہیں مل رہی تھی کیونکہ جو مزا لن کو گانڈ میں ڈالنے اور یار کی جسم کو اپنے جسم کے ساتھ چپکانے میں سرور اور آنند آتی ہے اور گانڈ اور جسم دونوں شانت ہوجاتے ہیں وہ بے جان گانڈ مرائی کے کھلونوں اور مُٹ مارنے اور اپنی گانڈ میں موم بتی اور کھیرا گھسیڑنے سے کہاں ملتی ہے۔ اس گانڈ کی چنتا اور پیاس بجھانے کیلئے میں یونہی بازار کی طرف اس امید پہ نکلا کہ شائد کسی نوجوان مٹے تازے لن والے سے ملاقات ہو اور بات بن جائے اور میری پیاسی اور بھوکی گانڈ کا مسئلہ نکل آئے. میں نے اپنی گاڑی کی بجائے بس میں سوار ہوگیا کیونکہ بس میں لوگوں کی بھیڑ میں کسی نہ کسی سے آنکھ لڑ جاتی یا کوئی مست قسم کا لونڈے باز اپنی لنڈ گانڈ پہ رگڑنا اور دبا کر بس میں سواری کا مزہ لیتے ہیں۔ اور اسی امید پہ میں نے بس میں سوار ہونے کا فیصلہ کیا۔ لنڈ کی تلاش میں میں نے دو بس تبدیل کئے لیکن کوشش ناکام گئی اب میں نے بس ایک دفعہ اور تبدیل کرکے اپنی گانڈ کی آگ بجانے اور خارش کم کرنے کا جو ناقابل برداشت ہو رہی تھی فیصلہ کیا اور ناکامی کی صورت میں گھر واپس جاکر پھر گانڈ میں موم بتی ڈال کر اپنی گانڈ آپ مارنے کی دل ہی دل میں ٹھان لی. تیسری بس میں مجھ بیھٹنے نے کے لئے سیٹ مل گئی اور میرے ساتھ کوئی ساٹھ سال کا ایک کلین شیو اور مضبوط اور کسرتی جسم کا شکل و صورت خوبصورت سا ہلکا سانولا بندہ بیٹھا تھا اور کافی اٹریکٹو لگ رہا تھا. میرےبیٹھتے ہی وہ میری طرف طرف کسک گیا پہلے تو میں نے محوس نہیں کیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد مجھے لگا کہ اسک ٹانگ میرے ٹانگ کو آہستہ ٹچ کررہی ہے میں نے کن انکھیوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ باہر کی طرف دیکھ رہا تھا.اور اس کے ہاتھ میں اخبار بھی تھا جو وہ جھولی میں پھیلا کر میرے سیٹ پر بیٹھنےسے پہلے پڑھ رہا تھا. ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہاگلی بس سٹاپ پہ اتر گھر جانے والی بس میں بیٹھ جاؤں گا مجھے لگا کہ اخبار کے نیچے سے اس کی انگلیاں میری ران کو ہلکاہلکا چھو رہی ہیں تو میرے جسم میں بجلی دوڑ گئی اور سنسناہٹ ہونے لگی اور میرے گانڈ کی سورااخ پھدکنے لگی اور ایکدم سے گانڈ میں کجلی اور بھڑگئ. اور دل ہی دل میں خوش بھی ہورہا تھا اور سوچ بھی رہا تھا کہ بالآخرمیری مست گانڈ کو منزل مل گئی ہے کیا ہوا جو ساتھ بیٹھنے والے کا عمر زیادہ ہے۔ اور ہوسکتا ہے مست لن کا مالک نکلے اور میرے گانڈ کی آگ بجھا دے. میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کس طرح اس کی حرکت کا جواب دوں جس نے میرے انگ انگ کو جنجھلا دیا تھا. میری طرف سے کوئی ری ایکشن نہ دیکھ کراب اس نے اخبار کے نیچے سے اپنی ہتھیلی میرے ران پہ رکھ دی اب مجھے پورا یقین ہوگیا کہ یہی میرے گانڈ کی منزل ہے اور یہ سوچ کر ایک دفعہ پھر میرے نس نس میں مستی دوڑ گئی. اب میں نے بھی اپنا ہاتھ اخبار کے نیچے دھیرے سے گھسا کر اس کے ہاتھ پر رکھ کے دبایا اور اسی لمحے اسکی طرف دیکھا وہ بھی میرے ہی طرف دیکھ رہا تھا جیسے ہی ہماری آنکھیں ملیں ہم دونوں مسکرا دیے اور میں نے اس کا ہاتھ زور دبا کر کہا کہ میرا نام رام ہے اس نے بھی میرے ہاتھ کو گرمجوشی سے دبا کر اپنا نام رمیش بتایا اور یوں لگ رہا تاکہ ہم دونوں ایک ہی منزل کے مسافر ہیں اخبار ابھی تک اس کی جھولی ہی میں تھا اور اخبار کے نیچے میرا ہہاتھ اس کے ہاتھ میں میرے ران پہ تھا میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اخبار کے نیچے سے اس کی لن پر رکھ دیا اور اور یہ محسوس کرکے دل ہی دل میں خوش ہوا کہ لن جاندار لگ ہے اورممیرے گانڈ کی گرمی ٹھنڈا کر سکتا ہے.مجھے اپنے اپارٹمنٹ میں اپنے بستر سیکس کرتے ہوئے بہت مزا آتا ہے. میں نے رمیش سے پوچھا کیا پروگرام ہے کیونکہ لن کی تلاش میں بس میں بیٹھ کر میں کافی دور نکل آیا تھا رمیش نے کہا وہ شہر مین نیا آیا اور کسی سی جان پہچان نہیں ہے اور ابھی رہائش دفتر کی طرف سے ملی ہہوئی ہے اور اپنے دیگر دفتر میں کام کرنے والوں کے ساتھ وہیں رہتا ہے میں نے اپنے ساتھ جانے کو کہا تو خوشی خوشی راضی ہوگیا۔ اگلی سٹاپ پہ ہم بس سے اتر گئے اور میں نے ٹییکسی لی. پچھلی سیٹ پہ ہم ایک دوسرے سے چپک کے بیٹھ گئے اور میرا ہاتھ اس کے لن پہ تھا اور وہ خود بھی اس عمر میں بڑا مست تھا اس نے میری زپ کھول کر میرے لنڈ کو سہلانا شروع کیا ہم دونوں ایک دوسرے میں اتنے گم تھے کہ وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور میری اپارٹمنٹ بلڈنگ آگئی اور ٹیکسی ڈرائیور نے آواز لگائی صاحب جی منزل آ گئی. اور پیچھے مڑکر معنی خیز مسکراہٹ سے ہماری طرف دیکھ ررہا تھا میں نے کرایہ دی اور اپارٹمنٹ کی طرف چل دئیے. جیسے ہی میں نے دروازہ بند کیا رمیش مجھ لپٹ کر مجھے کس کرنے لگا مجھے اچانک اس طرح لپٹنے اور کسنگ کا توقع ہی نہیں تھا اور اس نے موقع ہی نہیں دیا اس کی اسطرح لپٹنے کا میرے جسم نے بھی فوراً جواب دیا اور بدن میں بجلی سی لگ گئی میں نے بھی زور سے اس کو اپنی بانہوں میں لے کر اپنے ساتھ لگا لیا اور اسی گرم جوشی سے اس سکی کسنگ کرنے لگا۔ رمیش کا جسم کسرتی تھا اور وہ قد میں بھی مجھ سے بڑا تھا مجھ سے عمر میں بڑا ہونے کے باوجود فٹ تھا. اب نے ایک دوسرے کے ہونٹوں پہ کسنگ شروع کی وہ بڑا ماہر تھا اس نے بہت ہی پیار سے میرے ہونٹوں پر اپنی زبان ہلکی ہلکی پھیرنی شروع کی جس سے میرا لن پتلون کے اندر پدکھنے لگا اور میرے گانڈ کے سوراخ کے اندر ہلچل سے ہونے لگ گئی تھی اور مجھ پہ مستی کا نشہ چڑ رہا تھا ایسی مستی اور خمار کھبی بھی پہلے مجھے نہیں ملی تھی اور میں رمیش کی کمپنی کاایک ایک لمحہ انجؤئے کرنا چچاہتا تھا اس مدہوشی میں مجھے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب رمیش نے میری پینٹ کی زپ کھول کر میرے لن کو چھیڑنا شروع کیا تھا مجھے تب پتلا چھلا جب میرے لن کا ٹوپا اس نے اپنے گرم گرم منہ میں لیکر اپنی نرم زبان اس پر پھیرنی شروع کردی. میں نے جلدی سے اپنی شرٹ اتار دی اور بیلٹ کھول کر پتلون نیھے گرادی. رمیش ابھی تک میرے لن کے مزے لے رہا تھا اور اسکے منہ سے چپچپ کی آواز نکل رہی اور میں پاگل ہورہا اور وہ دیوانہ ہو میرے لنڈ کا قلفی کی رح چسکے لگا کر مزے اڑا رہا تھا پتلون کے گرتے ہی اس کی انگلیوں نے میرے چوتڑوں کا رخ کیا اور ان کو دبوچ کر ہلکا ہلکا دبانے لگے. رمیش کی پیار میں تیزی تھی دیوانگی اور جوش تھا لیکن وہ کسی بھی طور جلدی ممیں نہیں لگ رہا تھا وہ میرے ساتھ ہر لمحے کا مزہ لینا چاہتا تھا کمار کے جانے کے بعد میری گانڈ کی جو حالت ہوئی تھی . شائد رمیش بھی مردانہ رس ملائی نہ ملنے کی وجہ سے تڑپنے لگا تھا اور اب میری کمپنی سے اپنی بھوک مٹانا چہتا تھا.
اب رمیش کی ایک انگلی نے آخر کار میری خارش زدہ سوراخ کا پتہ لگا کر اس میں گھزنے کی کوشش کررہی تھی اس دوران میں نے رمیش کی شرٹ نکال دی تھی لیکن وہ ابھی تک پینٹ میں تھا میں نے اسے اوپر اٹھانے کوشش کی تاکہ اس کی پینٹ کی زپ کھول کر پینٹ نیچھے اتاردوں لیکن چونکہ وہ کسرتی جسم کا مالک تھا اس لئے میری کوشش ناکام ہوگئی اور برسوں کے پیاسے کی طرح میرے لن کا چوپا لگا رہا تھا جیسے ہی اس کی انگلی میرے گانڈ میں گھس گئی میری تو جیسے ٹانگوں سے جان نکل گئی اب میرا لن اس کے گرم میں اور اسکی موٹی انگلی میرے گرم گانڈ میں. میں تو پاگل ہورہا اور آنند ہی آنند اور مستی ہی مستی تھی اور میں اسطرح ساری زندگی رمیش کی دیوانگی کو قبول کرنے کے لئے تیار تھا. اس دوران اتنی مستی تھی کہ ہم ایک دوسرے میں گم تھے اور کوئی بات ہی نہ کرسکے. میں نے آہستہ اور خمار اور مستی بھرے آواز میں کہا رمیش بستر پہ چلیں۔ وہ چونک کر مسکرا دیا اور ہاں میں سر ہلا کر کھڑا ہو گیا مگر چپکا رہا اب تک اسکی انگلی میرے گانڈ کو میں گھوم گھوم کر مزے کے رس گھول رہی تھی اسکے کھڑے ہوتے ہی میں نے اس کی پینٹ کی بٹن اور بیلٹ کھول کر نچے گرادی اور اس کی انڈروئیر کے باہر سے ہی اس لن کی موٹائی گہرائی اور لمبائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جس نے کچھ دیر میں میری چینی دان میں مٹھاس گھولنی تھی لیکن مجھ سے صبر نہیں ہوا اور میں نے ایک دم سےانڈروئیر کو نیچے کینھچ لی اور میری آنکھیں پٹی کی پٹی رہ گئیں۔ کوئی سات انچ لمبا, موٹا سا سرخ ٹوپا اور پھر نمکین کالی گھیر والی شافٹ جو نیچے جا کر موٹی ہوتی ہوئی اور دو بڑے مگر لٹکتے بال پینڈولم کی طرح ہل رہے لگتا ہے بھگوان نے رمیش کی لن فرصت سے بنائی تھی اور اس عمر میں بھی اس سے جوانی نکلی پڑ رہی تھی۔ اس لن کی خوبصورتی اور بناوٹ کو دیکھ کر مجھ پہ تو جیسے جادو ہوگیا تھا اور میں سکتے میں آگیا تھا. میری زندگی لا سب سے خوبصورت لن جس کو میں پوجنے کےللئے تیار تھا میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ رمیش نے آواز لگائی رام بستر. میں.نے کہا ہاں لیکن پہلے مجھے تمھارے لن کو پوجنے دو تو وہ ہنسنے لگا میں نے ففوراً اس کو لس کرکے اپنی میں ڈال دیا اور پیار سے اس کے ٹوپے پر اپنی زبان پھیرنے لگی اور چوسنے لگا اب رمیش نے میرا سر پکڑ اپنی لن میرے دبانے لگا جو میرے حلق سے نیچے چلا جاتا اور واپس نکل آتا میں تو پہلے سے رمیش کی لن کو دیکھ کر پاگل ہوگیا تھا اب میرے منہ اس دھکم پیل نے مجھ مدھوش کر دیا ادھر رمیش کی بھی مزے میں سسکاریاں نکل رہی تھی اور اس لن میں گرمی بڑھ رہی تھی جس سے اس لمبائی اور گہرئی بڑھ کر اور موٹی ہوگئی تھی ایک دفعہ جوش میں لن میرے منہ سے باہر نکلا تو مجھے اس نسیں پھولی ہوئی لگیں میں نے کہا رمیش کیا مست لن بھگوان نے تم کو دی ہے. اب میں نے اسی طرح اپنا انگلی رمیش .گانڈ میں ڈال دی اور آہستہ آہستہ گھول گھول گھمانے لگا رمیشکا لن میرے منہ میں اور میری انگلی رمیش کے گانڈ میں ہم دونوں مستی سے سرشار ایک دوسرے گم زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے.
رمیش نے پھر کہا رام بستر! میرا من بالکل اس کی لن کو چھوڑنے کو تار نہیں تھا. اس نے پھر آواز لگائی اور ہم دونوں ایک دوسرے کی بہانوں میں بستر کی طرف بڑھے اور اس پہ ایک ساتھ گر پڑے. اب ہمارے منہ ایک دوسرے قریب تھے اور ہمارے لن ایک دوسرے کو ٹچ کرہے تھے اور ہم دونوں اپنی آنکھیں بند کرکےمزے لے رہے تھے. تب رمیش نے اپنا لن میرے لن کے نچے سے میرے جنگوں کے بیچ میرے گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر رگڑنا شروع کر دیا جب اسکی لن کا ٹوپا میرے گانڈ کے سوراخ کو ٹچ کرتا میرا سر مستی سے گھومنے لگتا. ابھی مزے سے پاگل ہی ہو رہا تھا کہ رمیش نے اٹھا اور مجھے بیڈ کے کنارے پر ا کر الٹا کیا اب میرا گانڈ اوپر کی طرف میرا لن نیچے کی طرف لٹک رہا تھا اور پھر میں نے رمیش کی گرم زبان کو اپنی گانڈ پر محسوس کرتے ہی سرور سے تڑپ گیا اور اپنی گانڈ کا سوراخ اس زبان کی طرف دبانے لگا اب ہم دونوں ایک ہی ردم میں آگے پیچھے ہو رہے اور میرا لنڈ مستی میں اچل اچل کر میرے پیٹ کو ٹچ کررہا تھا اور اب یہ میرے برداشت سے باہر ہو رہا تھا میں نے رمیش سے کہا اب اور کتنا تڑپاؤگے میں مر رہا ہوں تمھارے لن کیلئے بھگوان کے لیے اب میری گانڈ کی مستی ختم کرنے کیلئے اندرڈال دو. بھگوان کے لئے ڈال دو. ترساؤ ننہیں ظالم اب اور برداشت نہیں ہوتا. پھاڑ دو اس کو. چیر دو لیکن اپنی لن گانڈ میں ڈال دو پلیز پلیز اور پھر مجھے رمیش کے لن کی ٹوپی محسوس ہوئی میرا سوراخ کھلا ہے لیکن چونکہ رمیش کے لن کا ٹوپا کافی موٹا تھا اس لئے اس کو تھوڑی سی مشکل ہوئی لیکن ایک منٹ وہ خوبصرت موٹا لوڑا میری گانڈ کی سوراخ کی کناروں پھاڑتا ہوا غڑاپ سے میرے مردان چوت میں داخل ہوا میری سسکی نکلی لیکن اگلے ہی لمحے میری گانڈ کی آگ بجھنے لگی اور ہر طرف سے میری جسم سے آنند پھوٹنے لگی. رمیش گھسے پر گجسے لگا رہا اور اس کی بھی مزے سے سسکاریاں نکل رہی تھی اور ساتھ مزے میں بول بھی رہا تھا پھا ڑ دوں گا تیری گانڈ رنڈی. ایسا چودوں. کی تم میری رکھیل بن کے رہوگی. رنڈی رنڈی. اب میں بھی مزے میں مست اپنی گانڈ اس کی لنڈ کی بیس تک دباتا اس گھسم گھسی میں اچانک اس نے اپنا لنڈ نکال کر مجھے سیدھا کیا اور اپنا لنڈ میری گانڈ ایک زبردست جھٹکے سے ڈال دی اور زور سے دبانے اور گھمانے لگا. میں تو مزے سے چور چور تھا اور رمیش آہستہ آہستہ اپنی رفتار بڑھا کر میرے نشے میں اضافہ کررہا تھا پھر سنے میرا لن پکڑ کر مُٹ مارنی شروع کردی اب میرا مزہ دوبالا ہوگیا جیسے اس کا لن میرے گانڈ میں اترتا ویسے اس کا ہاتھ میرے لن سے اوپر سے نیچے آتا. رمیش نے کہا میں فارغ ہونے والا ہوں اور میں بھی آنند سے چکنا چور ہوچکا تھا اور پھر ایک د. سے رمیش کا لن مجھ میٹر کا لگا اور جیسے میری گانڈ پھٹ جائیگی اور میرے اندر مرد ملائی کی گرم گرم پھوار چوٹھی اور اسی دوران رمیش گرفت میرے لن کے گرد سخت ہو گیا اور میرا ملائیبھی ہر طرف پھیل گیا اور وہ میری گانڈ سے لن نکالے بغیر میرے گر گیا اور اپنے ہونٹ سختی سے میرے ہونٹوں پر چپکا دی اور میں نے اس کو اپنی بانہوں سختی سے بھینچ لیا. میری گانڈ بہت سے دوستوں نے ماری ہے اور ممیں نے بیت سے لڑکوں کو چودا ہے لیکن اس ساٹھ سال کے رمیش کے ساتھ سیکس کا مزہ ہی اور تھا اور ب بہت ہی اچھے دوست ہیں اور ایک دوسرے گانڈ مار کر سیکس کے زندگی کا مزہ لے رہے ہیں.
0 Comments
Thanks for feeback